تل ابیب،25مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اقوام متحدہ کے ایک مندوب کے مطابق اسرائیل بدستور مقبوضہ علاقوں میں بستیاں تعمیر کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی اپیلوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ اْلٹا اسرائیل نے بستیوں میں تعمیر و توسیع کی سرگرمیاں تیز تر کر دی ہیں۔اقوام متحدہ کے مندوب نکولائی ملاڈینوف نے جمعے کے روز عالمی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل نے کونسل کی اْس اپیل پر مثبت رد عمل ظاہر کرنے کے سلسلے میں کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے، جس میں مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بستیوں کی توسیع کے حوالے سے تمام تر سرگرمیاں روک دینے کے لیے کہا گیا تھا۔
یہ اپیل دسمبر میں عالمی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی اْس قرارداد میں کی گئی تھی، جس میں اسرائیل کی بستیاں تعمیر کرنے یا پہلے سے موجود بستیوں میں توسیع کرنے کی پالیسی کی مذمت کی گئی تھی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا گیا تھا۔ باراک اوباما کی انتظامیہ نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایسی کسی قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کرنے کی بجائے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا تھا۔دسمبر کی اس قرارداد کے بعد سے پہلی رپورٹ دیتے ہوئے ملاڈینوف نے، جو مشرقِ وْسطیٰ امن عمل کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ہیں، سلامتی کونسل کو بتایا کہ اْلٹا اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع تیز تر کر دی ہے، جس کا اندازہ بڑی تعداد میں نئی بستیوں کی تعمیر کے اعلانات اور متعارف کروائے گئے قوانین سے ہوتا ہے۔
’اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع تیز تر کر دی ہے‘چونکہ اس قرارداد میں اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اب اپنی اپیل کے نظر انداز کیے جانے پر کونسل کسی قسم کی کارروائی بھی نہیں کر سکتی تاہم کونسل اس امر پر زور بدستور دے رہی ہے کہ عالمی برادری ان بستیوں کی تعمیر و توسیع کو ناپسند اور نامنظور کرتی ہے۔ملاڈینوف نے اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر و توسیع کے اعلانات میں ’جنوری کے مہینے میں دیکھے جانے والے اضافے‘ کو ’بے انتہا تشویشناک‘ قرار دیا۔ اْنہوں نے کہا کہ جنوری میں ایریا سی کہلانے والے علاقے میں، جو اسرائیل کے زیر انتظام فلسطینی علاقے مغربی کنارے کا ساٹھ فیصد بنتا ہے، مجموعی طور پر ساڑھے پانچ ہزار نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر سے متعلق دو بڑے اعلانات کیے گئے تھے۔ مزید یہ کہ مجموعی طور پر بھی اس سال کے ابتدائی تین مہینوں میں ان بستیوں میں نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے اعلانات دو ہزار سولہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔